عارفانہ کلام

قسم کلام: اسم معرفہ ( واحد )

معنی

١ - وہ کلام جس میں خدا یا معرفتِ الٰہی کا ذکر ہو۔ "وسیع وادی میں ان کا سوز و گداز میں ڈوبا ہوا عارفانہ کلام مجلسی زندگی کا جزو بن چکا ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، من کے تار، ٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عارفانہ' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم 'کلام' لگانے سے مرکب 'عارفانہ کلام' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٦٨ء کو "من کے تار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کلام جس میں خدا یا معرفتِ الٰہی کا ذکر ہو۔ "وسیع وادی میں ان کا سوز و گداز میں ڈوبا ہوا عارفانہ کلام مجلسی زندگی کا جزو بن چکا ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، من کے تار، ٢٢ )